اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین کی جمعیت اسلامی الوفاق کے نائب سیکرٹری جنرل شیخ حسین الدیہی نے متعدد علما کے خلاف جاری مقدمات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف عائد کیے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور بحرینی عوام کے نزدیک یہ علما دیانت داری، شرافت اور سچائی کی علامت کے طور پر اپنی جگہ برقرار رکھیں گے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے عمر رسیدہ عالم دین پر اسلحہ چلانے کی تربیت دینے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کا الزام کیسے عائد کیا جا سکتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی مسجد میں گزاری اور لوگوں کو دینی تعلیم دینے اور ان کی خدمت میں صرف کردی؟
الدیہی کے مطابق ان علما کے خلاف عائد الزامات اور ان کی زندگی بھر کی دینی و سماجی خدمات کے درمیان واضح تضاد اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ان کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات قابلِ اعتبار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان علما کی عوامی حیثیت کئی دہائیوں کی دینی اور سماجی خدمات کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے اور ان کے خلاف ایسے الزامات عائد کرنے کا اصل مقصد دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے کہیں آگے ہے۔ ان کے بقول، مذہبی شخصیات کو نشانہ بنا کر معاشرے کے ایک اہم قومی و دینی طبقے کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جمعیت الوفاق کے نائب سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ دینی رہنماؤں اور علما کو کمزور کرنا، مساجد اور مذہبی اجتماعات پر پابندیاں عائد کرنا اور شیعہ مسلمانوں کے مذہبی امور میں خودمختاری محدود کرنا، اس عمل کا حصہ ہے جس کا مقصد معاشرے کے اس طبقے کو دباؤ میں لانا ہے۔
انہوں نے مقدمات میں موجود تضادات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے عالم دین کو، جو راتیں عبادت میں اور دن لوگوں کی خدمت میں گزارتا ہے، بیک وقت مسلح جنگجو اور سازشی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ تضادات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ مقدمات من گھڑت ہیں۔
شیخ حسین الدیہی نے کہا کہ مقدمات چاہے کتنے ہی طویل کیوں نہ کیے جائیں اور ان کے نام پر کتنے ہی ’’سیاسی ڈرامے‘‘ کیوں نہ رچائے جائیں، بحرینی علما عوام کے دلوں میں دیانت داری، شرافت اور سچائی کی علامت رہیں گے اور سکیورٹی سے متعلق مقدمات عوام میں ان کے مقام کو ختم نہیں کر سکتے۔
انہوں نے آخر میں علما کے خلاف مقدمات کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بحرینی عوام اب اتنے باشعور ہو چکے ہیں کہ سیاسی مقاصد کے تحت تیار کیے گئے الزامات پر یقین نہیں کریں گے۔ ان کے بقول، تاریخ بالآخر حقیقت اور الزامات کے درمیان فرق واضح کر دے گی۔
آپ کا تبصرہ